انسان کی تخلیق
وہ آیات جو انسان کی جسمانی ابتدا اور تخلیق کو بیان کرتی ہیں: مٹی سے، نطفے سے، اور جوڑوں کی صورت میں۔
- 35
- آیات
- 31
- مکی
- 4
- مدنی
- 0.94
- ربط
ربط بتاتا ہے کہ یہ آیات گروہ کے مرکز سے کتنی مشابہ ہیں، 0 سے 1 کے پیمانے پر۔
آیات
پہلے وہ آیات جو گروہ کے مرکز سے قریب ترین ہیں۔
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
كَلَّآ إِنَّا خَلَقْنَٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کیے
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰ
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍ كَٱلْفَخَّارِ
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
وَخَلَقْنَٰكُمْ أَزْوَٰجًا
(بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا
ثُمَّ جَعَلْنَٰهُ نُطْفَةً فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ
پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ
اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ
اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے
أَمِ ٱتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَىٰكُم بِٱلْبَنِينَ
کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِنْ عَلَقٍ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا
حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ
تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ
بھلا ہم نےاس کو دو آنکھیں نہیں دیں؟
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِى كَبَدٍ
کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے
إِذْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ
جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَىٰ
کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟
إِنَّآ أَنشَأْنَٰهُنَّ إِنشَآءً
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا
فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت
أَمْ خُلِقُوا۟ مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ ٱلْخَٰلِقُونَ
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ
اسی نے انسان کو پیدا کیا
ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ وَبَدَأَ خَلْقَ ٱلْإِنسَٰنِ مِن طِينٍ
جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا
فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ
ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
خُلِقَ مِن مَّآءٍ دَافِقٍ
وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے
ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا
مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے
إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰ
(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں
أَصْطَفَى ٱلْبَنَاتِ عَلَى ٱلْبَنِينَ
کیا اس نے بیٹوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے؟
یہ کہاں آتا ہے
یہ آیات پوری کتاب میں، پڑھنے کی ترتیب سے۔ ان میں سے اکثر الرحمن میں ہیں۔
ایک ہسٹوگرام کہ اس موضوع کی آیات قراءت کی ترتیب میں کتاب میں کہاں آتی ہیں۔
یہ کیسا سنائی دیتا ہے
پیمائش پوری کتاب کے مقابلے میں کی گئی ہے، اس لیے اہمیت فرق کی ہے۔
رحمت کتنی نمایاں ہے
فیصلے کا لہجہ کتنا نمایاں ہے
کتنا ہدایت دیتا ہے بجائے بیان کرنے کے
کتنا اس زندگی سے آگے کی طرف اشارہ کرتا ہے
آیت کتنی مثبت محسوس ہوتی ہے
زبان کتنی پرجوش ہے
ہر پٹی میں ہلکی لکیر اس چینل کے لیے پوری کتاب کا اوسط ہے۔
اس کے پہلو میں
وہ گروہ جو معنی میں اس کے قریب ترین بیٹھے ہیں۔
