یہاں کیا ہے
3 جھرمٹ، اور ہر جھرمٹ مشترک باتوں کو اُس نکتے سے الگ کرتا ہے جہاں قرآن کا بیان مختلف ہے۔
STARTQURANالقرآن الكريممجموعہ 04ایک دروازہ، کھلا ہوا
الأمم
اگر آپ کسی دھرمی روایت سے آتے ہیں، مشرق کے مذاہب سے، یا کسی ایسی راہ سے جس کا قرآن کبھی نام نہیں لیتا، تو کتاب پہلے ہی آپ کے لیے جگہ رکھ چکی ہے: وہ کہتی ہے کہ ہر قوم کو ایک رسول ملا، کہ اُن میں سے صرف کچھ کے قصے سنائے گئے، اور یہ کہ زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بذاتِ خود ایک نشانی ہے۔ یہ دروازہ حقیقی ہم آہنگیوں پر کھلتا ہے: یاد، ناپائیداری، نفس کی روک تھام۔ اور یہ جدائیوں کے بارے میں بھی سچ بولتا ہے: بغیر شبیہ کے ایک خدا، اور بغیر واپسی کی ایک زندگی۔
دروازے
3 جھرمٹ، اور ہر جھرمٹ مشترک باتوں کو اُس نکتے سے الگ کرتا ہے جہاں قرآن کا بیان مختلف ہے۔
نیچے دیے گئے خاکے سے مدد لیں۔ صرف وہی جھرمٹ کھولیں جو آپ کے سوال سے تعلق رکھتا ہے، پھر حوالہ دی گئی ہر آیت کو اس کے سیاق میں پڑھیں۔
مشترک اور مختلف کے عنوانات اِسی ادارتی تقابل کو بیان کرتے ہیں۔ قرآنی الفاظ اصل متن سے لیے گئے ہیں؛ کسی دوسری روایت کا بیان اُس کے اپنے مآخذ کا محتاج ہے۔

آپ کی روایت کا یہاں براہِ راست نام نہیں لیا گیا، اور آپ چاہتے ہیں کہ اُسے پہچانا جائے، نہ کہ کسی عمومی روحانیت میں دبا کر برابر کر دیا جائے۔
پہلے 10 منٹ
تقابل سے پہلے یہ پڑھیں۔ یہ تین چیزیں قائم کرتے ہیں: پہچان، قرآن کا اپنا دعویٰ، اور اختلاف کا ایک دیانت دارانہ نکتہ۔
کوئی امت فراموش نہیں کی گئی، اور کئی نبیوں کے قصے کبھی سنائے ہی نہیں گئے۔
آفاق، نفوس، ذکر، اور سدھایا ہوا نفس۔
ایک بے مثال خدا: نہ کوئی شبیہ، نہ مشابہت، نہ شریک، نہ ولادت، نہ تقسیم۔
مزید گہرائی میں
01 · جھرمٹ
تین طرح سے کہا گیا۔ ہر قوم کا اپنا رسول ہے؛ کوئی امت نظرانداز نہیں کی گئی؛ اور کچھ رسولوں کے قصے کبھی بیان ہی نہیں کیے گئے۔
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ
ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ فَإِذَا جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ قُضِىَ بِٱلْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلْمُبْطِلُونَ
اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے
زبانوں اور رنگوں کا تنوع خدا کی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے، اور قومیں اور قبیلے اِس لیے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں۔
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَٰنِكُمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّلْعَٰلِمِينَ
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے
اگر آپ کی راہ الوہی تک صورتوں، تجلیوں یا مقدس شبیہوں کے ذریعے پہنچتی ہے، تو قرآن کا مؤقف اِس سے مختلف ہے۔ اُس کے خدا کی نہ کوئی شبیہ ہے، نہ شریک، نہ مشابہت: مخلوق میں کوئی چیز اُس جیسی نہیں، اور کوئی چیز اُس کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔
فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ أَزْوَٰجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
معبود برحق جو بےنیاز ہے
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
02 · جھرمٹ
جنت اُس کے لیے وعدہ ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکے رکھا۔
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ
اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
اس کا ٹھکانہ بہشت ہے
دنیا کی زندگی کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، ایسی روئیدگی جو بھلی لگتی ہے، پھر زرد پڑتی ہے، پھر چُور ہو جاتی ہے؛ زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہو جاتا ہے اور رب کا چہرہ باقی رہتا ہے۔
ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ ٱلْكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمًا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٌ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ
اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی
دل خدا کی یاد سے چین پاتے ہیں۔ ذکر صرف عقیدہ نہیں، ایک عمل ہے: دہرایا جانے والا، باقاعدہ، اور سکون دینے والا۔
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ ٱللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ
(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں
اگر آپ کی راہ پنر جنم سکھاتی ہے، تو قرآن کی ترتیب مختلف ہے۔ وہ ایک ہی زمینی زندگی اور موت سکھاتا ہے، اور مرنے والوں کے پیچھے اٹھنے کے دن تک ایک آڑ ہے؛ واپس بھیجے جانے اور بہتر کرنے کی درخواست نقل کی گئی ہے، اور رد کر دی گئی ہے۔
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ٱرْجِعُونِ
(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے
لَعَلِّىٓ أَعْمَلُ صَٰلِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّآ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا وَمِن وَرَآئِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)
اگر آپ کی راہ آخری منزل کو یہ سمجھتی ہے کہ الگ نفس کسی مطلق میں جذب ہو کر رہا ہو جائے، تو قرآن کی منزل ایک ملاقات ہے۔ انسان اپنے رب کی طرف مشقت کرتا ہوا جاتا ہے، اُس سے ملتا ہے، اور ایک نفس کے طور پر جواب دیتا ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَٰقِيهِ
اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا
بَلِ ٱلْإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌ
بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے
03 · جھرمٹ
ایک طویل آیت آسمان اور زمین، کشتیوں، بارش، پھیلے ہوئے جانداروں اور گھومتی ہواؤں کو ایک جگہ جمع کرتی ہے، اور اُنہیں عقل سے کام لینے والوں کے سامنے نشانیوں کے طور پر رکھتی ہے۔
إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
آفاق اور نفس، دونوں کو اُن جگہوں کے طور پر بتایا گیا ہے جہاں نشانیاں دکھائی جائیں گی۔
سَنُرِيهِمْ ءَايَٰتِنَا فِى ٱلْءَافَاقِ وَفِىٓ أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے
کچھ روایتیں حقیقتِ اعلیٰ کو ہستی کی ایک غیر شخصی بنیاد کہتی ہیں۔ قرآن کا خدا متکلم کے صیغے میں بولتا ہے، اپنا نام بتاتا ہے، حکم دیتا ہے، اور یاد کیے جانے کو کہتا ہے۔ یہاں مطلق کے سب سے اچھے نام ہیں، اور وہ آپ کو مخاطب کرتا ہے۔
إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِىٓ
بےشک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو
هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَٰلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے