یہاں کیا ہے
3 جھرمٹ، اور ہر جھرمٹ مشترک باتوں کو اُس نکتے سے الگ کرتا ہے جہاں قرآن کا بیان مختلف ہے۔
STARTQURANالقرآن الكريممجموعہ 04ایک دروازہ، کھلا ہوا
الناس
اگر آپ کسی مذہب کے قائل نہیں، تب بھی قرآن آپ کو مخاطب کرتا ہے: اُس کا سب سے وسیع خطاب مومنوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے ہے۔ وہ اُسی سے دلیل لاتا ہے جو دیکھا جا سکتا ہے: بارش، کشتیاں، رات اور دن کا ادل بدل۔ وہ بغیر سوچے قبول کیے گئے آبائی عقیدے کی مذمت کرتا ہے، اور مادہ پرست مؤقف کو اُس کی اپنی آواز میں نقل کرنے کے بعد اُس کا جواب دیتا ہے۔ یہ دروازہ اُنہی خطابات اور دلیلوں کو جمع کرتا ہے، اور اُس قدم کے بارے میں بھی صاف بات کرتا ہے جو کتاب آخر میں مانگتی ہے، اور جو کوئی دلیل آپ کی طرف سے نہیں اٹھا سکتی۔
دروازے
3 جھرمٹ، اور ہر جھرمٹ مشترک باتوں کو اُس نکتے سے الگ کرتا ہے جہاں قرآن کا بیان مختلف ہے۔
نیچے دیے گئے خاکے سے مدد لیں۔ صرف وہی جھرمٹ کھولیں جو آپ کے سوال سے تعلق رکھتا ہے، پھر حوالہ دی گئی ہر آیت کو اس کے سیاق میں پڑھیں۔
مشترک اور مختلف کے عنوانات اِسی ادارتی تقابل کو بیان کرتے ہیں۔ قرآنی الفاظ اصل متن سے لیے گئے ہیں؛ کسی دوسری روایت کا بیان اُس کے اپنے مآخذ کا محتاج ہے۔

آپ کسی صحیفے کو پیشگی اختیار نہیں دیتے؛ آپ ایمان سے پہلے اُس کے سوالات، شواہد اور حدود کو جانچنا چاہتے ہیں۔
پہلے 10 منٹ
تقابل سے پہلے یہ پڑھیں۔ یہ تین چیزیں قائم کرتے ہیں: پہچان، قرآن کا اپنا دعویٰ، اور اختلاف کا ایک دیانت دارانہ نکتہ۔
آسمان، زمین، کشتیاں، بارش، جاندار، ہوا اور عقل: سب ایک ہی دلیل میں۔
بغیر کسی چیز کے پیدا ہوئے، خود اپنے خالق، یا آسمانوں اور زمین کے خالق؟
قرآن غیب پر ایمان کو ایک ایسی دہلیز بتاتا ہے جسے پار کرنے کو وہ واقعی کہتا ہے۔
مزید گہرائی میں
01 · جھرمٹ
آسمان، زمین، کشتیاں، بارش اور ہوائیں، ایک ہی آیت میں جمع کر کے عقل رکھنے والوں کے سامنے نشانیوں کے طور پر رکھی گئی ہیں۔
إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
کھڑے، بیٹھے، اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے، آسمانوں اور زمین کی ساخت کے بارے میں سوچتے ہوئے۔
إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَءَايَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے پڑنا منع ہے، کان، آنکھ اور دل ہر ایک جواب دہ ہے، اور مخالف دعووں کے سامنے دلیل کا مطالبہ رکھا جاتا ہے۔
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا
اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ هَٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِىَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِى بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْحَقَّ فَهُم مُّعْرِضُونَ
کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
باپ دادا جو کچھ مانتے تھے اُسے بغیر جانچے اپنا لینا اُن الفاظ میں رد کیا گیا ہے جن پر کوئی بھی شک کرنے والا دستخط کر دے۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًٔا وَلَا يَهْتَدُونَ
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)
قرآن کو توقع ہے کہ دنیا سے شروع ہونے والی دلیل ایک خالق پر ختم ہوگی۔ اِس دلیل کی سب سے مختصر صورت دو سوال ہیں: کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کر دیے گئے، یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟ ایک سیکولر قاری یہ سمجھ سکتا ہے کہ اِن سوالوں کے قدرتی جواب موجود ہیں۔ کتاب اور اُس کا قاری بالکل یہیں جدا ہوتے ہیں، اور احترام کے ساتھ جدا ہوتے ہیں۔
أَمْ خُلِقُوا۟ مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ ٱلْخَٰلِقُونَ
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں
أَمْ خَلَقُوا۟ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے
02 · جھرمٹ
انسانوں کو ایک ہی جان سے نکلے ایک ہی خاندان کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے، جنہیں قوموں اور قبیلوں میں اِس لیے بانٹا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، اور جہاں مرتبہ نسب سے نہیں بلکہ عمل سے ناپا جاتا ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَآءً وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے
اولادِ آدم کو معزز قرار دیا گیا ہے۔ اُن سب کو، کسی بھی عقیدے سے پہلے۔
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ وَحَمَلْنَٰهُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلْنَٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا
اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی
ایمان زبردستی نہیں کرایا جا سکتا، اور قرآن اُسے زبردستی منوانے سے دستبردار ہوتا ہے؛ خود نبی سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ لوگوں کو ماننے پر مجبور کریں گے۔
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں
اگر انسان کے بارے میں آپ کا بیان موت پر ختم ہو جاتا ہے، تو قرآن کا بیان وہاں ختم نہیں ہوتا۔ وہ موت اور زندگی کو ایک آزمائش کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کے بعد واپسی اور حساب ہے، اور یہ فرق بغیر کسی جھجک کے بیان کرتا ہے۔
ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
یہ رائے کہ اِس زندگی کے سوا کچھ نہیں، اور یہ کہ ہمیں صرف زمانہ ہلاک کرتا ہے، قرآن کے اندر موجود ہے، اُسی کی اپنی آواز میں نقل کی گئی ہے اور اُس کا جواب علم نہیں بلکہ گمان کہہ کر دیا گیا ہے۔ آپ جو بھی نتیجہ نکالیں، کتاب نے آپ کا مؤقف دیکھا اور اُسے درج کیا۔
وَقَالُوا۟ مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهْرُ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
03 · جھرمٹ
ہڈیوں کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد اُنہیں کون زندہ کرے گا؟ یہ سوال کتاب کے اندر پوچھنے والے کے اپنے الفاظ میں رکھا گیا ہے، اور اِس کا جواب دلیل سے دیا گیا ہے: وہی جس نے اُنہیں پہلی بار بنایا۔
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌ
اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟
قُلْ يُحْيِيهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ
کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے
ابراہیم کہتے ہیں کہ اُنہیں دکھایا جائے کہ مُردے کیسے زندہ کیے جاتے ہیں، ایمان کی کمی سے نہیں، وہ کہتے ہیں، بلکہ اِس لیے کہ اُن کا دل مطمئن ہو جائے۔ جواب میں اُنہیں سرزنش نہیں، ایک مظاہرہ ملتا ہے۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
ہر دلیل کے بعد قرآن اپنے لوگوں کو اُن کے طور پر بیان کرتا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، یعنی اُس پر جہاں کوئی آلہ نہیں پہنچتا۔ شواہد آپ کو دروازے تک لے جاتے ہیں؛ بھروسہ اُس سے گزرتا ہے۔ کتاب اِس بات میں صاف ہے کہ یہ قدم مانگا جاتا ہے، اور یہ صفحہ اِس بات میں صاف ہے کہ کوئی دلیل یہ قدم آپ کی جگہ نہیں اٹھا سکتی۔
ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں